Skip to content
City Details

Khawaja Khuda Bakhsh History: Biography, Shrine and Khairpur Tamewali Legacy

12/09/2026 By kptproduction328@gmail.com

جنوبی پنجاب کی تاریخی و روح پرور سرزمین پر حضرت خواجہ خدا بخش ملتانی ثم خیرپوریؒ کا آستانہ عالیہ علم، تصوف اور ہدایت کا ایک عظیم الشان مرکز ہے۔ خیرپور ٹامیوالی (ضلع بہاولپور) کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس شہر کی باقاعدہ روح اور پہچان حضرت خواجہ خدا بخشؒ کی ذاتِ بابرکت سے جڑی ہوئی ہے۔ اس جامع مضمون میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ Khawaja Khuda Bakhsh Kon They? ان کی ابتدائی حیات، شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ سے علمی استقاضہ، ملتان میں چالیس سالہ درس و تدریس، خیرپور آمد، اور دربارِ عالیہ کے تاریخی پس منظر سمیت خیرپور ٹامیوالی کی مکمل تاریخ پر مفصل روشنی ڈالیں گے۔

Khawaja Khuda Bakhsh History Darbar Khairpur Tamewali

حضرت خواجہ خدا بخش ملتانی ثم خیرپوریؒ کون تھے؟ (Khawaja Khuda Bakhsh Kon They)

حضرت خواجہ خدا بخشؒ 1150ھ (مطابق 1737ء) میں قصبہ تلمبہ (ضلع خانیوال) میں پیدا ہوئے۔ آپ کا نسبی تعلق ایک علم دوست اور زاہد خاندان سے تھا۔ آپ کے والد ماجد مولانا قاضی جان محمدؒ اپنے وقت کے جید عالمِ دین اور صاحبِ زہد و تقویٰ بزرگ تھے۔

آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والدِ گرامی سے حاصل کی اور مزید دینی علوم کی اعلیٰ تعلیم کے لیے ہندوستان کے مرکزی علمی شہر دہلی تشریف لے گئے۔ وہاں آپ نے دہلی کے نامور دینی ادارے “مدرسہ رحیمیہ” میں داخلہ لیا اور عظیم محدث حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کے سامنے زانوے تلمذ طے کیا۔ آپ نے علومِ قرآن و حدیث کی تکمیل حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی زیرِ سرپرستی کی اور سندِ فراغت حاصل کی۔

“حضرت خواجہ خدا بخشؒ نے شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ جیسے جید محدث سے علومِ حدیث حاصل کیے اور بعد میں سلسلہ چشتیہ میں حضرت حافظ محمد جمال اللہ ملتانیؒ کے ہاتھ پر بیعت ہو کر خلافت و سرفرازی حاصل کی۔”

ملتان میں 40 سالہ درس اور خیرپور آمد (Educational Legacy & Migration)

دہلی سے حصولِ علم کے بعد آپ واپس پنجاب تشریف لائے اور ملتان کے تاریخی محلے “کمہار پورہ” (حسین آگاہی و دولت گیٹ کے درمیان) میں سکونت اختیار کی۔ ملتان کی اس مسجد میں آپ نے تقریباً 40 سال تک قال اللہ اور قال الرسولؐ کا درس دیا۔ ہزاروں تلامذہ نے آپ کے علمی چشمے سے فیض حاصل کیا، جس کی وجہ سے وہ مسجد آج بھی “درس والی مسجد” کے نام سے مشہور و معروف ہے۔

مرشدِ کریم حضرت حافظ جمال اللہ ملتانیؒ کے حکم پر آپ نے بعد میں خیرپور ٹامیوالی کا رخ کیا۔ جب آپ خیرپور تشریف لائے تو اس خطے کی علمی، روحانی اور اخلاقی کایا پلٹ گئی۔ آپ نے یہاں قیام فرما کر لوگوں کے دلوں میں عشقِ الٰہی اور سنتِ نبویؐ کی شمع روشن کی۔ اسی نسبت سے آپ کو “ملتانی ثم خیرپوری” کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔

سالانہ عرس مبارک اور میلا خواجہ خدا بخشؒ (Mela Khwaja Khuda Bakhsh)

ہر سال 27 محرم الحرام کو حضرت خواجہ خدا بخشؒ کا سالانہ عرس مبارک اور روایت میلا (Mela Khwaja Khuda Bakhsh) نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد ہوتا ہے۔ اس بابرکت موقع پر پاکستان بھر سے، بالخصوص جنوبی پنجاب اور سندھ سے لاکھوں زائرین خیرپور ٹامیوالی کا رخ کرتے ہیں۔

  • روحانی محافل: عرس کی تقاریب میں قرآن خوانی، نعت خوانی، اور فکرِ تصوف پر علمائے کرام کے خطابات ہوتے ہیں۔
  • ثقافتی و مقامی میلا: عرس مبارک کے ساتھ ساتھ شہر میں روایتی میلا بھی سجتا ہے جہاں مقامی دستکاری، چولستانی ثقافت، اور سوہن حلوے کے اسٹالز زائرین کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔

خیرپور ٹامیوالی کی مختصر تاریخ (Brief History of Khairpur Tamewali)

خیرپور ٹامیوالی صرف ایک دینی مرکز ہی نہیں بلکہ ایک بوقلمون تاریخی و انتظامی خطہ ہے۔ تاریخ کے اوراق کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ:

👑 راجہ لکھی رائے جادھون (1750ء)

1750ء تک اس خطے پر جادوبنسی راجپوت راجہ لکھی رائے جادھون کی حکومت تھی، جس کے بعد احمد شاہ ابدالی نے اس خطے کا اقتدار سنبھالا۔

🌾 جداول خان اور خیر محمد (1741ء)

سردار جداول خان نے 1741ء میں اپنے بھتیجے خیر محمد کے نام پر اس بستی کی بنیاد رکھی جس کا نام ‘خیرپور’ رکھا گیا۔

☄️ “Tommy” اور شہابیے کی روایت

1900ء کے قریب برطانوی انجینئر Tommy نے سدھنائی میلسی لنک نہر اور بہاول کینال کے جنکشن پر گرنے والے شہابیے (Meteor) کو دریافت کیا، جس کی نسبت سے “ٹامیوالی” کا نام جڑ گیا۔

خیرپور ٹامیوالی میں دیگر قدیم آستانے بھی مرجعِ خلائق ہیں:

  1. پیر سید غلام محی الدین گیلانیؒ (پیر سید چپ شاہ سرکار): پولیس اسٹیشن خیرپور ٹامیوالی کے قریب واقع یہ دربار غوثِ اعظم سید عبدالقادر گیلانیؒ کی آل سے ہے۔ آپ کے ساتھ آپ کے صاحبزادے چن پیر بھی مدفون ہیں۔
  2. سید بدر شاہ گیلانیؒ: شہر میں 200 سال سے زائد قدیم آستانہ سید بدر شاہ گیلانیؒ بھی واقع ہے۔

English & Roman English Summary

Hazrat Khawaja Khuda Bakhsh Multani Summa Khairpuri (R.A.) was an eminent Sufi scholar born in 1737 AD (1150 AH) in Tulamba. He received his education under Shah Waliullah Dehlavi at Madrasa Rahimiya in Delhi and later spent 40 years teaching Islamic jurisprudence in Multan. Upon the instruction of his spiritual master, Hafiz Muhammad Jamaluddin Multani, he settled in Khairpur Tamewali, transforming it into a hub of spirituality. The city, which was ruled by Rajput King Lakhi Rai Jadhaun until 1750 and later governed under Bahawalpur State, hosts his historic shrine where the annual Urs and Mela are celebrated every year.

Roman Urdu: Khawaja Khuda Bakhsh Kon They? Aap 1737 me Tulamba me paida huay, Shah Waliullah Dehlavi se taleem hasil ki aur Multan me 40 saal dars dene ke baad Khairpur Tamewali me muqim huay. Aap ka darbar aaj bhi hazaron zairren ki ziarat gah hai.

اہم لنکس اور آن لائن پلیٹ فارمز:

🌐 Website: KPT Production Official
📍 Location: Google Map – Khairpur Tamewali
📱 Social Channels: Facebook | TikTok | YouTube Channel

KPT Production پر مزید تاریخی اور تازہ ترین خبریں پڑھیں